یہ مدنی سورت بڑی اہم اور دور رس اِصلاحات پر مشتمل ہے جنھیں اگر دین اسلام کا طرۂ امتیاز کہا جائے تو قطعاً مبالغہ نہ ہوگا۔اس سورت میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توجہ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے پر دی گئی ہے؛ کیوں کہ گھر ہی قوم کی خشت اول ہے، گھر ہی وہ گہوارہ ہے جہاں قوم کے مستقبل کے معمار پرورش پاتے ہیں ، گھر ہی وہ مدرسہ ہے جہاں اخلاق وکردار کی جو قدریں اچھی یا بری، بلند یا پست لوحِ قلب پر لکھ دی جاتی ہیں ان کے نقوش کبھی مدھم نہیں پڑتے۔ صرف جذبات خواہ کتنے ہی پاکیزہ ومعصوم کیوں نہ ہوں حقائق کا مقابلہ کرنے کی تاب نہیں لاسکتے۔ قرآن حقائق کو حقائق کی حیثیت سے دیکھتا ہے؛ اس لیے گھر کے ماحول کو خواشگوار بنانے کے لیے مبہم نصیحتوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے لیے واضح اور غیر مبہم قاعدے اور ضابطے متعین کیے۔
امرأۃ عورت کو کہتے ہیں جس کی جمع نساء ہے۔اس سورہ میں منجملہ دوسرے مسائل کے عورتوں کے انتہائی اہم اور حساس مسائل زیر بحث آئے ہیں ، اس لیے اس کا نام سورۃ النساء رکھا گیا۔ سورہ بقرہ کے بعد متنوع اور بھرپور طریقہ پر مسائل کا بیان اس سورہ کے اندر ہے۔ معاشرتی اور قومی مسائل کے ساتھ تشریعی مسائل اور ہجرت اور جہاد پر سیر حاصل گفتگو، غیر مسلم اقوام کے ساتھ تعلقات کی نوعیت، میراث کے احکام، کلالہ کا مسئلہ، عقائد پر بحث، منافقین کا تذکرہ اور یہود و نصاری کے مکروہ چہرہ کی نقاب کشائی جیسے اہم موضوعات پر مفصل گفتگو کی گئی ہے۔
تقوی اختیار کرنے کی تلقین کے ساتھ سورہ کی ابتدا کی گئی ہے اور اللہ کی قدرت کا بیان ہے کہ آدم و حوا علیہما السلام کی معجزانہ تخلیق کے بعد بے شمار انسانوں کو اس جوڑے کی صلب سے پیدا کر کے اس سرزمین پر پھیلا دیا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کے ناطے تمام انسانوں کو ایک گھرانے کے افراد کی طرح باہمی اتفاق و اتحاد سے زندگی بسر کرنی چاہیے۔
پھر یتیموں کی کفالت اور ان کے اموال کی دیانتداری کے ساتھ حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت اور ان میں عدل و انصاف قائم رکھنے کا بیان ہے۔ مہر کی ادائیگی بطیبِ خاطر کی جائے اور خواتین چاہیں تو اپنا مہر معاف بھی کرسکتی ہیں ۔ معاشرہ میں ناسمجھ افراد کی نگہداشت اور ان کی مالی سرپرستی کا حکم دیا گیا ہے، پھر وراثت کے موضوع پر تفصیلی گفتگو اور تمام وارثوں کے حصے متعین کر کے بتایا گیا ہے کہ وارثوں کے استحقاق کو اللہ تم سے بہتر جانتا ہے۔ وراثت کی تقسیم سے پہلے میت کے قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل درآمد کی تلقین ہے۔
مذکورہ آیات میں احکاماتِ خداوندی کو ’حدود اللہ‘ قرار دیاگیا، جو بھی ان حدود کی پاس داری کرے گا وہ ہمیشہ ہمیش کی جنت کا حق دار ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص ان حدود کو پامال کرے گا ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم کے ذلت آمیز عذاب سے دوچارہوگا۔
آیت ۱۶ اور۱۷میں اللہ تعالی نے قبولیتِ توبہ کا اُصول بیان فرمایا ہے کہ جن لوگوں سے گناہ سرزد ہوجائے اور وہ غلطی کا احساس ہونے پر جلدی توبہ کرلیں تو ان کی توبہ کی قبولیت اللہ تعالی کے ذمۂ کرم پر ہے۔ سچی توبہ کے شرائط یہ ہیں کہ گناہ پر حقیقی ندامت اور افسوس ہو۔ آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کیا جائے۔ گناہ کو عملاً ترک کرنے کا مصمم ارادہ ہو۔ کسی بندے کے ساتھ زیادتی کی صورت میں اس کا حق لوٹایاجائے یا اس سے معاف کرایا جائے۔
پھربتایاگیاکہ جو لوگ زندگی بھر گناہ کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ فرشتہ اجل سر پر آ کھڑا ہو اور پھر کہیں کہ میں نے توبہ کی تو ان کی توبہ کی قبولیت کی کوئی ضمانت نہیں اور جن کی موت کفر پر واقع ہوجائے ان کی آخرت میں نجات کی کوئی ضمانت نہیں ۔
آیت ۲۲ میں فرمایاکہ سوتیلی ماں سے نکاح مت کرو، یہ بڑی بے حیائی اور اللہ کو ناراض کرنے والا عمل ہے۔ پھر اگلی آیات میں بارہ ابدی محرم خواتین اور دو عارضی محرم خواتین کی فہرست دی گئی ہے۔ ابدی محرم خواتین میں ماں ، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، رضاعی ماں ، رضاعی بہن، ساس، سوتیلی بیٹی(جس کی والدہ سے تعلق قائم کیا جاچکا ہو) اوربہو شامل ہیں ۔
اور دوعارضی محرم خواتین یہ ہیں : پہلی بیوی کی بہن۔ یعنی دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں رکھنا حرام ہے۔ اگر ایک خاتون کو طلاق دے دی جائے یا اس کا انتقال ہوجائے تو پھر اس کی بہن سے نکاح ہوسکتا ہے۔ (حدیث شریف میں بیوی کی بہن کے علاوہ اس کی پھوپھی، بھتیجی، خالہ اور بھانجی سے بھی نکاح کی ممانعت آئی ہے)۔
حدیث پاک میں ہے کہ جن عورتوں سے نسب کے رشتے سے نکاح حرام ہے، ان سے رضاعت کے رشتے سے بھی حرام ہے اور سورۂ نساکی آیت ۲۳میں بھی یہ مسئلہ بیان کردیا گیا ہے ۔
اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کے باریک مسائل سمجھنے اور ان پر عمل پیرا رہ کر اسلامی زندگی گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ طہ ویسین .
خلاصہ القران از افروز چڑیاکوٹی۔
0 Comments