یہ سورت اپنے اندر بے پناہ فضائل رکھنے کے باعث بہت زیادہ تلاوت کی جاتی ہے۔ نیم
مردوں کے سرہانے پڑھنے کا بھی عام رواج ہے۔ یہ دراصل قرآن کریم کا دل ہے۔ عارف باللہ امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ دل انسانی حیات کا ضامن ہے اور عقیدۂ آخرت ایمانی حیات کا ضامن ہے اور اس سورۂ یس میں دراصل اسی عقیدۂ آخرت کو مختلف پیرائے میں بڑے منفرد ومؤثر انداز پر پیش کردیا گیا ہے۔
ابتدامیں قرآن کریم کی حکمتوں کا بیان ہے، نیز یہ کہ نزولِ قرآن کا مقصد غافل لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراناہے اور ان پر حق کی حجت کو قائم کرناہے؛ لیکن کچھ سرکش لوگ ایسے ہیں کہ جن پر دعوتِ حق اثر انداز نہیں ہوتی ۔دعوتِ حق انہی پر اثر اندازہوتی ہے جو نصیحت کو قبول کریں اور جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہو۔
اگلی آیات میں اِس امر کا بیان ہے کہ اللہ تعالی نے دعوتِ حق وتوحید کے لیے اپنے اَنبیا ایک بستی (انطاکیہ ) کے مشرکین کی طر ف بھیجے، جب وہ پیغام ہدایت لے کر وہاں پہنچے تو بستی والے راہِ ہدایت پر چلنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے، اُن پیغمبروں کی نہ صرف تکذیب کی بلکہ ان سے بدفالی لیتے ہوئے کہاکہ تمہاری نحوست سے ہم مہنگائی اور باہمی اختلافات کی پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ نحوست کی اصل وجہ تمہاری ہٹ دھرمی اور اللہ کے پیغام کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ نیز یہ کہ انہیں سنگسار کرنے اور دردناک عذاب دینے کی دھمکی دی۔ انبیا نے ان پر حجت الٰہیہ کو قائم کردیا۔ اسی اثنا میں بستی والوں کا مقابلہ کرنے کے لیے شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص (حبیب نجار جو دعوتِ حق کو قبول کرچکا تھا) دوڑتاہواآیا اور کہنے لگاکہ اے میری قوم! ان رسولوں کی پیروی کرو، اسی میں تمہارے لیے خیر ہے کہ یہ تم سے اولاًکچھ اجرواِنعام طلب نہیں کررہے ہیں ، اور پھر وہ ہدایت پر بھی ہیں ۔
حبیب نجار نے قوم کوسمجھاتے ہوئے کہاکہ لوگو! جس اللہ نے ہمیں پیدا کیا اور اسی کی طرف ہم کو لوٹ کر جانا بھی ہے توپھر ہمیں عبادت بھی اسی کی کرنی چاہیے اور مفادات سے بالاتر ہوکر جو لوگ ہمیں پیغام حق پہنچانے آئے ہیں ہمیں ان کی دعوت پر لبیک بھی کہنا چاہیے مگر قوم اپنے ظلم و ستم سے باز نہ آئی اور قاصدین حق کے قتل پر آمادہ ہوگئی۔
حبیب نجار نے قوم کی بجائے اللہ والوں کا ساتھ دیا اور ایمان کے تحفظ اور دین حق کی حمایت میں اپنی جان داؤ پر لگادی اور تینوں اللہ والے شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوگئے۔ حق کے دفاع اور حمایت میں اس عظیم الشان قربانی پر اللہ کا نظام غیبی حرکت میں آگیا اور فرشتے نے فصیل پناہ کے دروازہ پر کھڑے ہوکر ایک زور دار چیخ ماری جس کی ہولناکی اور دہشت سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور وہ ٹھنڈے ہوکر رہ گئے۔ انہیں ہلاک کرنے کے لیے اللہ تعالی کو فرشتوں کے لشکر نہیں بھیجنے پڑے؛ اس لیے مشرکین مکہ کو مشرکین انطاکیہ کے اس عبرتناک انجام سے سبق سیکھ لینا چاہیے۔
ان کی شہادتِ عظمیٰ کے بعد اللہ تعالی نے ان کو جنت میں داخل کر دیا۔ جنت میں جانے کے بعد جب انھوں نے اپنی آنکھوں سے اللہ ان نعمتوں کا مشاہدہ کرلیا جو اللہ نے اہل ایمان کے لیے تیار کررکھی ہیں توبے ساختہحبیب نجار کی زبان سے یہ نکلا کہ اے کاش! میری قوم کے لوگوں کو اس بات کا علم ہو جاتا کہ (میں کامیاب ہوگیا ہوں اور) میرے پروردگار نے میری بخش فرماکر مجھے جنت میں داخل کر دیا ہے۔
اگلی آیات میں اللہ تعالی کی قدرت وجلالت کو بیان کیا کہ سورج ، چانداور سیارے
قادرِ مطلق کے نظم کے تابع چل رہے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ ان میں کوئی فساد یا ٹکراؤ ہوجائے ۔مظاہر قدرت بلا شبہہ عظیم خالق ومدبر کی صفاتِ عالیہ کے عظیم آثار ہیں ۔
مظاہر قدرت جہاں حق کے آثار ظاہر کررہے ہیں وہیں ان کا جوڑوں کی صورت میں ہونا آخر کے واقع ہونے کی دلیل ہے۔ جس طرح ہر مخلوق جوڑے کی صورت میں ہے اسی طرح دنیوی زندگی کا جوڑا آخرت کی زندگی ہے۔
آیت ۴۱ سے پھر یہ بتایاجارہا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سواریوں کو بھی جوڑوں کی صورت میں بنایا ہے، ایک وہ ہیں جو کشتیوں اور جہازوں کی صورت میں دریائوں اور سمندروں میں چلتی ہیں اور دوسری وہ ہیں جو خشکی پر رواں دوا ہیں ، یہ بڑی جسامت والے، سواری اور باربرداری کے جانور اور دورِ جدید میں ایجاد ہونے والی گاڑیوں اور ریل کی صورت میں ہیں ۔ پھر ان سواریوں میں محفوظ سفر بھی اللہ ہی کی رحمت سے ممکن ہے۔ اگر سمندر میں طغیانی آجائے اور کشتیاں ڈوبنے لگیں تو کون ہے جو ہمیں ڈوبنے سے بچائے سواے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے !۔
اس کے بعد تقوی اختیار کرنے اور غرباؤ مساکین پر خرچ کرنے کی تلقین کے ساتھ مشرکین کی ہٹ دھرمی اور ضلالت کا تذکرہ اور قیامت قائم کرنے کے فوری مطالبہ پر مخصوص اسلوب میں تنبیہ ہے کہ یہ لوگ بس ایک زور دار چیخ کے منتظر ہیں جو انہیں بھرپور زندگی گزارتے ہوئے اچانک آلے گی اور انہیں اپنے اہل خانہ تک پہنچنے اور کسی قسم کی وصیت کی مہلت بھی نہ مل سکے گی۔
اس کے بعد قیام قیامت کی منظر کشی کی گئی ہے کہ جیسے ہی صور پھونکا جائے گا لوگ قبروں سے نکل کر اتنی بڑی تعداد میں اپنے رب کے سامنے حاضری کے لیے چل پڑیں گے کہ وہ پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے اور بے اختیار پکار اٹھیں گے کہ ہمیں قبروں سے کس نے نکال باہر کیا، پھر خود ہی یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ یہ تو رحمان کے وعدہ کی عملی تفسیر
ہے اور رسولوں نے بالکل سچ کہا تھا۔ اب خواہ کوئی چاہے یا نہ چاہے، اسے میدانِ حشر میں اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے حاضر ہونا پڑے گا۔اس کے بعد ظلم سے پاک محاسبہ اور جیسی کرنی ویسی بھرنی کے ضابطہ کے مطابق جزاو سزا کا عمل ہوگا۔
جنت والے اپنے مشغلوں میں شاداں و فرحاں ہوں گے، گھنے سائے میں اپنی بیگمات کے پہلو بہ پہلو مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوئے لطف اندوز ہورہے ہوں گے جو طلب کریں گے وہ ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ رب رحیم کی طرف سے انہیں سلامیاں دی جارہی ہوں گی۔ اس کے بالمقابل مجرموں کو روزِ قیامت شرم دلائی جائے گی کہ تمہیں شیطان کی عبادت کرنے سے منع کیاگیاتھالیکن تمہاری اکثریت نے اس ملعون کی عبادت کی، تمہیں حکم دیاگیا تھا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور یہی سیدھا راستہ ہے؛ لیکن تم شیطان کے راستے پر چل نکلے۔ لہٰذا آج تمہارے مونہوں پر مہریں لگادی جائیں گی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں (اور دیگر اعضا) سلطانی گواہ بن کر اللہ تعالی کی عدالت میں ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم سے دنیا میں کیا کیا جرائم کرائے جاتے رہے ہیں ۔
چونکہ اس سورت میں زیادہ تر بحث بعث بعد الموت کے حوالے سے ہے؛ اس لیے اس کا اختتام بھی منکرینِ آخرت کے اس عقلی سوال کے جواب پر ہورہا ہے کہ جب انسان مر جائے گا اور ہڈیاں تک بوسیدہ ہوجائیں گی ، تو دوبارہ کون زندہ کرے گا؟۔ اس کا جواب دیا کہ دوبارہ بھی وہی خالق تبارک وتعالی زندہ کرے گا جس نے بغیر کسی نام ونشان کے پہلے پیدا کیا تھا۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتاہے تو فرماتاہے کن (ہوجا)، تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے، کن کہنا بھی ضروری نہیں ہے صرف اللہ تعالی کا اِرادہ کافی ہے۔۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اپنے مخلصین میں شامل
فرمائے، تعلیماتِ قرآنی کو فروغ دینے اور جو کچھ سنتے ہیں ان پر پورا پورا عمل پیرا ہونے
کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین ﷺ
(منقول خلاصہ قران افروز چڑیاکوٹی)
0 Comments