تلخیص سورہ آل عمران|خلاصہ قرآن از افروز چڑیاکوٹی(2)

 


اِبتدا میں اللہ کی وحدانیت اور قرآن کریم،کی آیات میں مسلسل اہل کتاب کی مذمت کی گئی ہے اور ان کے جرائم بیان کیے گئے ہیں کہ یہی ہیں جنھوں نے انبیا کو قتل کیا، خوں ریزی کی، اللہ کے نیک بندوں پر مظالم ڈھائے، وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا مسلمانوں کو سمجھایاگیا کہ وہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو کبھی دوست نہ بنائیں ؛ کیوں کہ اسلام اور کفر کے درمیان کوئی رشتہ ناطہ نہیں ہے اور کافر کبھی بھی مسلمان کے ساتھ مخلص اور خیرخواہ نہیں ہوسکتا!۔

ہمیں ہروقت اللہ سے ہدایت کی دعا مانگنی چاہیے اور روزِ جزا کے تصور کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ کافروں کا مال و اولاد ان کے کسی کام نہیں آ سکے گا۔ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ فرعون اور اس سے پہلے اقوام کے واقعات سے یہ بات ظاہر ہے۔ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا، ہم نکے ان کے جرائم پر ان کی گرفت کر کے انہیں عبرت کا نشانہ بنا دیا۔ بدر کے واقعہ میں غور کرو جب دو جماعتیں مقابلہ پر آئیں ۔ ایک جماعت اللہ کے لیے جہاد کرنے والی اور دوسری جماعت کافروں کی تھی، جن کی تعداد مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ نظر آ رہی تھی۔ اللہ تعالی نے کافروں کو شکست دے کر ایمان والوں کو اپنی مدد سے غالب کیا۔ اس سے اہل بصیرت درس عبرت حاصل کرسکتے ہیں ۔

آیت ۱۴ میں بتایاگیا ہے کہ انسانوں کو بیوی، بچے، مال و دولت کے خزانے، سونا چاندی، سواریاں ، چوپائے، جانور اور کھیتیاں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں ، مگر یہ سب دنیا کی عارضی چیزیں ہیں ۔ اللہ تعالی کے پاس بہترین انجام ہے۔ متقی لوگوں کے لیے باغات، نہریں ، پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی رضا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ بندے گناہوں پر استغفار اور جہنم سے حفاظت کے طلبگار ہیں ۔ صبر کرنے والے، سچ بولنے والے، فرماں برداری کرنے والے، صدقہ و خیرات کرنے والے اور تہجد کے وقت اپنے

گناہوں کی معافی مانگنے والے ہیں ۔ اللہ تعالی اور فرشتے اور تمام اہل علم، توحید کی گواہی دیتے ہیں ۔ انسانی زندگی کے لئے نظام حیات جو اللہ تعالی کے یہاں مستند و مسلم ہے وہ صرف اسلام ہے اور اس سے اختلاف رکھنے والے ہٹ دھرم اور ضدی ہیں ۔ اللہ تعالی جلد ہی ان کافروں کا احتساب کرے گا۔ بحث بازی اور جھگڑا کرنے کی بجائے اللہ تعالی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی ہدایت ہے۔

آیت ۳۱ میں اللہ تعالیٰ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمتِ شان کا ان الفاظ میں ذکر ہے(اے رسول!)کہہ دیجیے اگر تم اللہ سے محبت کے دعوے دار ہو، تو میری پیروی کرو ، اللہ(خود) تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گااور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ اس آیت میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اگر بندہ اللہ تعالی کے قرب اور رِضا کا طلب گار ہو ، تو اس کا فقط ایک ہی راستہ ہے یعنی اتباعِ مصطفیﷺ۔

اگلی آیات میں تین عبرت آموز واقعات کا ذکر ہے۔ یہ تینوں قصے خوارقِ عادات کے قبیل سے ہیں اور تینوں اللہ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتے ہیں ۔

جنابِ عمران کی صاحب کردار پاکباز اہلیہ ’حنہ بنت فاقوذ‘ جب حاملہ ہوئیں تو انہوں نے منت مانی کہ وہ اپنے پیدا ہونے والے بچے کو اللہ تعالی کے لیے وقف کر دیں گے۔ آپ کے یہاں خلافِ توقع بچے کی بجائے بچی کی ولادت ہوئی ۔جناب عمران کی اہلیہ نے اپنی منت کو بچی ہونے کے باوجود پورا کیا اور آپ کا نام مریم رکھ کر آپ کو حضرت زکریاعلیہ السلام کی کفالت میں دے دیا۔اللہ تعالی نے جناب مریم کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیا اور آپ کے بچپن سے لے کر جوانی تک کے تمام ایام اللہ کی بندگی میں صرف ہوتے رہے؛ یہاں تک کہ بارگاہ الٰہی سے آپ کے لیے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم کے پھل آنے لگے ۔

حضرت زکریا جو مریم کے خالوبھی تھے ایک دن اس محراب میں داخل ہوئے جہاں سیدہ مریم عبادت میں مشغول رہتی تھیں ، انہوں نے سیدہ مریم سے پوچھاکہ آپ کے

پاس یہ بے موسم کے پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ کہا اللہ کی طرف سے آتے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے بلا حساب رزق دیتا ہے۔ حضرت زکریا اب تک بے اولاد تھے اور آپ کی بیوی بانجھ تھیں ، سیدہ مریم کے پاس بے موسم کے پھل دیکھ کر جناب زکریا ں بھی رحمت الٰہی سے پر اُمید ہوگئے اور آپ نے سوچا کہ اگر مریم کو بے موسم کے پھل مل سکتے ہیں تو مجھے بے موسم کی اولاد کیوں نہیں مل سکتی۔چنانچہ آپ نے دعا مانگی: اے میرے پروردگار! مجھے بھی اپنی طرف سے پاک اولاد عطا فرما۔ فوراً دعا قبول ہوئی ، حضرت زکریا ابھی محراب میں نماز ہی اَدا فرما رہے تھے کہ فرشتے نے آپ کو پکارکر کہا: اے زکریا!آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے یحییٰ نامی پارسا اورسردار بیٹے کی بشارت ہو ۔حضرت زکریا اس کے بعد تین دن تک خلوت نشین ہوکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ذکر ومناجات اور تسبیح وتہلیل میں مشغول ہوگئے ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ فرشتوں نے پکار کر سیدہ مریم کو کہاکہ اللہ نے آپ کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے اور آپ کو پاکیزگی اور طہارت عطا فرمائی ہے اور آپ کو جہانوں کی عورتوں سے بلند فرمادیا ہے، اے مریم! آپ اپنے رب کی بندگی اختیار کریں ، اورباقاعدگی اور جماعت کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا کریں ۔

اس کے بعد اللہ تعالی نے جناب مریم کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ سیدہ مریم کادل اس واقعہ کو قبول نہیں کررہا تھا لیکن اللہ تعالی نے ان کو بن شوہر کے ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ کے حکم سے کوڑھی اور برص کے مریضوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ شفایاب ہوجاتے۔ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کے لوگوں کو اللہ کے حکم سے گھر میں کھائے جانے اور باقی رہ جانے والے کھانے کی بھی خبر دیتے تھے ۔حضرت عیسیٰ کی معجزاتی پیدائش کی وجہ سے عیسائی مغالطے کا شکار ہوگئے اور ان کو اللہ کا بیٹا قرار د ینے لگے۔ اس پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے جن کو اللہ نے بن باپ اور بن ماں کے مٹی سے پیدا کیااور کہا ہوجا تو وہ ہوگیا ۔

نجران کے عیسائی پادری حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عیسیٰ کی

ولادت کے بارے میں بحث کرنے کے بعد لاجواب ہوگئے؛ لیکن حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، جس پر سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مباہلے کا چیلنج دیا کہ تم اگر حق کو تسلیم نہیں کرتے تو اپنے نفوس، بیٹوں اور عورتوں کو لے کر آؤ، اور اللہ کی لعنت ہو جھوٹوں پر۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حضرت علی ، حضر ت فاطمہ ، حضرت حسن اورحضرت حسین رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ میدانِ مباہلہ میں پہنچے تونجران کے پادریوں نے مباہلے کا چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیا اورجزیہ دینے پر راضی ہوگئے۔

حضورتاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ کتاب کومخاطب کرکے کہاکہ اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے تو آؤ ان نکات پر جوہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہیں اِتفاق کرلو یعنی عبادت صرف اللہ کی ہوگی،شرک کو ترک کرنا ہوگا اور اللہ کو چھوڑ کر بندوں کو رب ماننے کا شِعار بند کرنا ہوگا۔ اہلِ کتاب مشترکات (Comonalities) پر بھی جمع نہ ہوئے جو اُن کی ہٹ دھرمی کا واضح ثبوت ہے ۔

اس سورت میں آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ کفا ر حضرت عیسیٰ کی جان کے درپے تھے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کو بشارت دی کہ میں آپ کو زندہ آسمانوں کی طرف اٹھا لوں گا اور کفار آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے ۔چنانچہ اللہ نے بعد ازاں اپنے وعدے کو پورا فرمایا اور حضر ت عیسیٰ کو زندہ اٹھالیا اور اب جناب عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی مینار پر اُتریں گے اوردجال کے فتنے کا خاتمہ کریں گے۔

آیت ۶۹ سے اہل ایمان کو آگاہ کیاگیا ہے کہ اہل کتاب خود تو گمراہ ہیں وہ تمہیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں یعنی ’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کوبھی لے ڈوبیں گے‘۔ اہل کتاب کو ملامت کی گئی کہ تم کیوں جانتے بوجھتے اللہ کی آیات کا انکار کررہے ہو، حق میں باطل کی آمیزش کررہے ہو اور حق کو چھپانے کے جرم کا ارتکاب کررہے ہو۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں رسول اللہ ﷺ کے مقام کا بھی ذکرکیا ہے کہ عالم ارواح میں اللہ نے انبیا کی روحوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ اگر ان کی

زندگی میں رسول اللہ ﷺ آجائیں تو پھر ان پر ایمان لانا اور ان کی حمایت کرنا گروہِ انبیا پرلازم ہوگا ، چنانچہ سب نے اس کا اقرار کیا۔ اس پراللہ نے فرمایاکہ اب تم اس پر گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں ۔ اِس میثاق سے معلوم ہواکہ ختم الرسول ﷺ پر ایمان اور آپ کی نصرت وحمایت کا ہر نبی پابند تھا اور پھر اس کا عملی مظاہرہ شبِ معراج کو اس وقت ہوا ،جب آدم علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاے کرام نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ کے امام الانبیا ہونے کا عملی طورپر اظہارہوا۔

یہ مسلمانوں کے لیے بڑے شرف اور اعزاز کی بات ہے کہ ان کو رسول اللہ جیسا بے مثال رسول اور برگزیدہ پیغمبرملا، انھیں اس نعمت عظمیٰ اور احسانِ بے کراں پر اللہ جل مجدہ کا ہمیشہ شکر اَدا کرتے رہنا چاہیے۔

اِس پارے کی آخری آیات میں یہ بیان ہے کہ دینِ اسلام ایک تسلسل کا نام ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے ختم المرسلین ﷺتک چلاآرہاہے اور اسی دین کی طرف بلایا جارہاہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام مخلوق کا جو بھی تکوینی نظام قائم ہے وہ سب خوشی یا ناخوشی اِس نظام اور اطاعت کا پابند ہے۔ اسلام ہی وہ دین ہے جس کی دعوت حضرت ابراہیم،حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق،حضرت یعقوب اور ان کی اولاد اور حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام دیتے آئے ہیں ۔اور اسلام کے سواکسی اور دین کو ہرگز قبول نہیں کیاجائے گا۔ایمان اور کفر دومتضاد حقیقتیں ہیں جو کبھی جمع نہیں ہوسکتیں ؛ پس اگر کوئی شخص اسلام کے سواکسی اور دین میں پناہ تلاش کرتاہے ،تو وہ خسارہ اُٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فہم دین وقرآن کے ساتھ اسلامی نظام زندگی کے مطابق جینے مرنے اور سودی لین دین کی ہر نحوست سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلینﷺ۔وہ لاجواب ہو گئے۔

اِبتدا میں اللہ کی وحدانیت اور قرآن کریم، تورات اور انجیل کی حقانیت کو بیان کیا اور اللہ کی آیات کے منکروں کو عذاب شدید سے ڈرایا۔ علم الٰہی کی وسعتوں کو بیان کیا۔ قدرت کے تخلیقی شاہکار انسان کے رحمِ مادر میں تیاری کے مرحلہ کو بیان کیا اور بتایا کہ قرآن کریم اللہ تعالی ہی نے نازل فرمایا ہے، جس میں محکم اور واضح معنی و مفہوم رکھنے والی آیات بھی ہیں اور متشابہات بھی ہیں ، جو حق کے متلاشی ہوتے ہیں وہ ہمیشہ محکمات کی پیروی کرتے ہیں اور جن کے دل میں کجی اور دماغ میں فتور ہوتا ہے وہ متشابہات کی غلط سلط تاویل کرنے اور ان کی مراد تک پہنچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔

جب کہ اللہ کے محبوب بندے آیاتِ متشابہات کی حقیقت کا کھوج لگانے کی بجائے توجہ آیاتِ محکمات پر مرکوز رکھتے ہیں ۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ پورا کلام اللہ کی طرف سے ہے اور ہماری عقل اس کا احاطہ کرسکے یا نہ کرسکے ہم ہر صورت میں اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔

تو قرآن کے اندر کلمۃ اللہ اور روح جیسے الفاظ‘ متشابہات کی قسم سے ہیں ، ان متشابہات کی بنیاد پر عقائد کی عمارت کھڑی کرنا پانی پر نقش بنانے کے سوا کچھ نہیں ، تو

حید اور ایمان کے دلائل بالکل واضح ہیں ان کا انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو بصیرت سے بالکل کورا ہو۔

اگلی آیات میںشرکیہ مسلسل اہل کتاب کی مذمت کی گئی ہے اور ان کے جرائم بیان کیے گئے ہیں کہ یہی ہیں جنھوں نے انبیا کو قتل کیا، خوں ریزی کی، اللہ کے نیک بندوں پر مظالم ڈھائے، وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا مسلمانوں کو سمجھایاگیا کہ وہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو کبھی دوست نہ بنائیں ؛ کیوں کہ اسلام اور کفر کے درمیان کوئی رشتہ ناطہ نہیں ہے اور کافر کبھی بھی مسلمان کے ساتھ مخلص اور خیرخواہ نہیں ہوسکتا!۔

ہمیں ہروقت اللہ سے ہدایت کی دعا مانگنی چاہیے اور روزِ جزا کے تصور کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ کافروں کا مال و اولاد ان کے کسی کام نہیں آ سکے گا۔ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ فرعون اور اس سے پہلے اقوام کے واقعات سے یہ بات ظاہر ہے۔ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا، ہم نے ان کے جرائم پر ان کی گرفت کر کے انہیں عبرت کا نشانہ بنا دیا۔ بدر کے واقعہ میں غور کرو جب دو جماعتیں مقابلہ پر آئیں ۔ ایک جماعت اللہ کے لیے جہاد کرنے والی اور دوسری جماعت کافروں کی تھی، جن کی تعداد مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ نظر آ رہی تھی۔ اللہ تعالی نے کافروں کو شکست دے کر ایمان والوں کو اپنی مدد سے غالب کیا۔ اس سے اہل بصیرت درس عبرت حاصل کرسکتے ہیں ۔

آیت ۱۴ میں بتایاگیا ہے کہ انسانوں کو بیوی، بچے، مال و دولت کے خزانے، سونا چاندی، سواریاں ، چوپائے، جانور اور کھیتیاں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں ، مگر یہ سب دنیا کی عارضی چیزیں ہیں ۔ اللہ تعالی کے پاس بہترین انجام ہے۔ متقی لوگوں کے لیے باغات، نہریں ، پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی رضا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ بندے گناہوں پر استغفار اور جہنم سے حفاظت کے طلبگار ہیں ۔ صبر کرنے والے، سچ بولنے والے، فرماں برداری کرنے والے، صدقہ و خیرات کرنے والے اور تہجد کے وقت اپنے

گناہوں کی معافی مانگنے والے ہیں ۔ اللہ تعالی اور فرشتے اور تمام اہل علم، توحید کی گواہی دیتے ہیں ۔ انسانی زندگی کے لئے نظام حیات جو اللہ تعالی کے یہاں مستند و مسلم ہے وہ صرف اسلام ہے اور اس سے اختلاف رکھنے والے ہٹ دھرم اور ضدی ہیں ۔ اللہ تعالی جلد ہی ان کافروں کا احتساب کرے گا۔ بحث بازی اور جھگڑا کرنے کی بجائے اللہ تعالی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی ہدایت ہے۔

آیت ۳۱ میں اللہ تعالیٰ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمتِ شان کا ان الفاظ میں ذکر ہے(اے رسول!)کہہ دیجیے اگر تم اللہ سے محبت کے دعوے دار ہو، تو میری پیروی کرو ، اللہ(خود) تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گااور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ اس آیت میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اگر بندہ اللہ تعالی کے قرب اور رِضا کا طلب گار ہو ، تو اس کا فقط ایک ہی راستہ ہے یعنی اتباعِ مصطفیﷺ۔

اگلی آیات میں تین عبرت آموز واقعات کا ذکر ہے۔ یہ تینوں قصے خوارقِ عادات کے قبیل سے ہیں اور تینوں اللہ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتے ہیں ۔

جنابِ عمران کی صاحب کردار پاکباز اہلیہ ’حنہ بنت فاقوذ‘ جب حاملہ ہوئیں تو انہوں نے منت مانی کہ وہ اپنے پیدا ہونے والے بچے کو اللہ تعالی کے لیے وقف کر دیں گے۔ آپ کے یہاں خلافِ توقع بچے کی بجائے بچی کی ولادت ہوئی ۔جناب عمران کی اہلیہ نے اپنی منت کو بچی ہونے کے باوجود پورا کیا اور آپ کا نام مریم رکھ کر آپ کو حضرت زکریاعلیہ السلام کی کفالت میں دے دیا۔اللہ تعالی نے جناب مریم کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیا اور آپ کے بچپن سے لے کر جوانی تک کے تمام ایام اللہ کی بندگی میں صرف ہوتے رہے؛ یہاں تک کہ بارگاہ الٰہی سے آپ کے لیے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم کے پھل آنے لگے ۔

حضرت زکریا جو مریم کے خالوبھی تھے ایک دن اس محراب میں داخل ہوئے جہاں سیدہ مریم عبادت میں مشغول رہتی تھیں ، انہوں نے سیدہ مریم سے پوچھاکہ آپ کے

پاس یہ بے موسم کے پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ کہا اللہ کی طرف سے آتے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے بلا حساب رزق دیتا ہے۔ حضرت زکریا اب تک بے اولاد تھے اور آپ کی بیوی بانجھ تھیں ، سیدہ مریم کے پاس بے موسم کے پھل دیکھ کر جناب زکریا ں بھی رحمت الٰہی سے پر اُمید ہوگئے اور آپ نے سوچا کہ اگر مریم کو بے موسم کے پھل مل سکتے ہیں تو مجھے بے موسم کی اولاد کیوں نہیں مل سکتی۔چنانچہ آپ نے دعا مانگی: اے میرے پروردگار! مجھے بھی اپنی طرف سے پاک اولاد عطا فرما۔ فوراً دعا قبول ہوئی ، حضرت زکریا ابھی محراب میں نماز ہی اَدا فرما رہے تھے کہ فرشتے نے آپ کو پکارکر کہا: اے زکریا!آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے یحییٰ نامی پارسا اورسردار بیٹے کی بشارت ہو ۔حضرت زکریا اس کے بعد تین دن تک خلوت نشین ہوکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ذکر ومناجات اور تسبیح وتہلیل میں مشغول ہوگئے ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ فرشتوں نے پکار کر سیدہ مریم کو کہاکہ اللہ نے آپ کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے اور آپ کو پاکیزگی اور طہارت عطا فرمائی ہے اور آپ کو جہانوں کی عورتوں سے بلند فرمادیا ہے، اے مریم! آپ اپنے رب کی بندگی اختیار کریں ، اورباقاعدگی اور جماعت کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا کریں ۔

اس کے بعد اللہ تعالی نے جناب مریم کے ہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی ولادت کا ذکر کیا ہے۔ سیدہ مریم کادل اس واقعہ کو قبول نہیں کررہا تھا لیکن اللہ تعالی نے ان کو بن شوہر کے ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ کے حکم سے کوڑھی اور برص کے مریضوں پر ہاتھ پھیرتے تو وہ شفایاب ہوجاتے۔ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کے لوگوں کو اللہ کے حکم سے گھر میں کھائے جانے اور باقی رہ جانے والے کھانے کی بھی خبر دیتے تھے ۔حضرت عیسیٰ کی معجزاتی پیدائش کی وجہ سے عیسائی مغالطے کا شکار ہوگئے اور ان کو اللہ کا بیٹا قرار د ینے لگے۔ اس پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے جن کو اللہ نے بن باپ اور بن ماں کے مٹی سے پیدا کیااور کہا ہوجا تو وہ ہوگیا ۔

نجران کے عیسائی پادری حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عیسیٰ کی

ولادت کے بارے میں بحث کرنے کے بعد لاجواب ہوگئے؛ لیکن حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، جس پر سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مباہلے کا چیلنج دیا کہ تم اگر حق کو تسلیم نہیں کرتے تو اپنے نفوس، بیٹوں اور عورتوں کو لے کر آؤ، اور اللہ کی لعنت ہو جھوٹوں پر۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حضرت علی ، حضر ت فاطمہ ، حضرت حسن اورحضرت حسین رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ میدانِ مباہلہ میں پہنچے تونجران کے پادریوں نے مباہلے کا چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیا اورجزیہ دینے پر راضی ہوگئے۔

حضورتاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ کتاب کومخاطب کرکے کہاکہ اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے تو آؤ ان نکات پر جوہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہیں اِتفاق کرلو یعنی عبادت صرف اللہ کی ہوگی،شرک کو ترک کرنا ہوگا اور اللہ کو چھوڑ کر بندوں کو رب ماننے کا شِعار بند کرنا ہوگا۔ اہلِ کتاب مشترکات (Comonalities) پر بھی جمع نہ ہوئے جو اُن کی ہٹ دھرمی کا واضح ثبوت ہے ۔

اس سورت میں آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلایا کہ کفا ر حضرت عیسیٰ کی جان کے درپے تھے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کو بشارت دی کہ میں آپ کو زندہ آسمانوں کی طرف اٹھا لوں گا اور کفار آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے ۔چنانچہ اللہ نے بعد ازاں اپنے وعدے کو پورا فرمایا اور حضر ت عیسیٰ کو زندہ اٹھالیا اور اب جناب عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی مینار پر اُتریں گے اوردجال کے فتنے کا خاتمہ کریں گے۔

آیت ۶۹ سے اہل ایمان کو آگاہ کیاگیا ہے کہ اہل کتاب خود تو گمراہ ہیں وہ تمہیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں یعنی ’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کوبھی لے ڈوبیں گے‘۔ اہل کتاب کو ملامت کی گئی کہ تم کیوں جانتے بوجھتے اللہ کی آیات کا انکار کررہے ہو، حق میں باطل کی آمیزش کررہے ہو اور حق کو چھپانے کے جرم کا ارتکاب کررہے ہو۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں رسول اللہ ﷺ کے مقام کا بھی ذکرکیا ہے کہ عالم ارواح میں اللہ نے انبیا کی روحوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ اگر ان کی

زندگی میں رسول اللہ ﷺ آجائیں تو پھر ان پر ایمان لانا اور ان کی حمایت کرنا گروہِ انبیا پرلازم ہوگا ، چنانچہ سب نے اس کا اقرار کیا۔ اس پراللہ نے فرمایاکہ اب تم اس پر گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں ۔ اِس میثاق سے معلوم ہواکہ ختم الرسول ﷺ پر ایمان اور آپ کی نصرت وحمایت کا ہر نبی پابند تھا اور پھر اس کا عملی مظاہرہ شبِ معراج کو اس وقت ہوا ،جب آدم علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاے کرام نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ کے امام الانبیا ہونے کا عملی طورپر اظہارہوا۔

یہ مسلمانوں کے لیے بڑے شرف اور اعزاز کی بات ہے کہ ان کو رسول اللہ جیسا بے مثال رسول اور برگزیدہ پیغمبرملا، انھیں اس نعمت عظمیٰ اور احسانِ بے کراں پر اللہ جل مجدہ کا ہمیشہ شکر اَدا کرتے رہنا چاہیے۔

اِس پارے کی آخری آیات میں یہ بیان ہے کہ دینِ اسلام ایک تسلسل کا نام ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے ختم المرسلین ﷺتک چلاآرہاہے اور اسی دین کی طرف بلایا جارہاہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام مخلوق کا جو بھی تکوینی نظام قائم ہے وہ سب خوشی یا ناخوشی اِس نظام اور اطاعت کا پابند ہے۔ اسلام ہی وہ دین ہے جس کی دعوت حضرت ابراہیم،حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق،حضرت یعقوب اور ان کی اولاد اور حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام دیتے آئے ہیں ۔اور اسلام کے سواکسی اور دین کو ہرگز قبول نہیں کیاجائے گا۔ایمان اور کفر دومتضاد حقیقتیں ہیں جو کبھی جمع نہیں ہوسکتیں ؛ پس اگر کوئی شخص اسلام کے سواکسی اور دین میں پناہ تلاش کرتاہے ،تو وہ خسارہ اُٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فہم دین وقرآن کے ساتھ اسلامی نظام زندگی کے مطابق جینے مرنے اور سودی لین دین کی ہر نحوست سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلینﷺ۔

Post a Comment

0 Comments